آئس ایڈکشن ایک خطرناک بیماری

Views: 1218
Published on: 02-Oct-2025

از قلم: رابعہ سعید 


آئس ایڈکشن ایک خطرناک بیماری

 آئس ایڈکشن :ایک ایسی بیماری ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہےـ یہ ایک قسم کی میتھام فیٹامین ہےـ یہ ایک طاقتور (غیر قانونی) مرکزی اعصابی نظام کو متحرک کرنے والی دوا ہے اور ایڈکشن کا سبب بنتی ہے ـاس کے مضر اثرات میں بے چینی, جنون، دل کی رفتار کا بڑھنا ,فالج اور موت شامل ہیں ـ

 آئس کا استعمال پہلی بار 1893 میں جاپان میں کیا گیا جب ایک کیمسٹ ناگا یوشی ناگاہی نے میڈیکل میں ( جیسے کہ ناک بند ہونا اور موٹاپے کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا)

1920 اور 1930 میں میتھام فیٹامین کو وزن کم کرنے , تھکاوٹ اور ڈپریشن کم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا
 
1950 اور 1960 میں ملٹری میں اس کا استعمال کیا گیا تا کہ فوجی سو نہ سکیں اور جاگتے رہیں اور ان کو بھوک بھی نہ لگے ـ

1980 میں اس کا استعمال بڑھ گیا اور پیداوار بھی بڑھا دی گئی ـ


 پاکستان کی تقریبا چھ فیصد آبادی نشہ کی عادی ہےـ 
یونائٹڈ نیشنز آفس ان ڈرگز اینڈ کرائم( یو این او ڈی سی) کی 2013 کی رپورٹ کے مطابق : پاکستان میں (سات ملین )لوگ کسی نہ کسی نشہ میں مبتلا ہیں ـ
 پاکستان میں سب سے زیادہ ( کے پی کے ) میں 11 فیصد لوگ ڈرگ ایڈکشن کا شکار ہیں ـ ابھی تک پاکستان میں آئس ایڈک لوگوں کے اعداد و شمار کے بارے میں حکومتی سطح پر کوئی سروے نہیں ہوا اور یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے ـ

وجوہات: 

بے روزگاری،
 غربت 
معاشرتی اور خاندانی مسائل 
سماجی اثر ورسوخ 
ساتھیوں کا دباؤ 
نئی چیزوں کے کرنے کی جستجو
جہالت 
نشے کا آسانی سے مل جانا 
اعتماد کی کمی
ذہنی صحت کے مسائل 
ثقافتی اور معاشرتی اثرات 
سوشل میڈیا میں نشے کی تشہیر 
قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا 
اج کل سکول اور کالجز میں سٹوڈنٹس کو آئس ایڈکشن کی طرف راغب کرنے کے لیے ایک تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ آئس کے استعمال کے بعد تین دن میں امتحان کی تیاری کر سکیں گےـ جو پڑھیں گے وہ فوراً یاد ہو جائے گاـ اس طرح بہت سے سٹوڈنٹس آئس ایڈکشن کی طرف راغب ہوتے ہیں ـ ایک اور تاثر جو پاکستان میں آئس ایڈکشن کو پھیلانے کے لیے  دیا جاتا ہے
 وہ ہے موٹاپا کم کرناـ بعض اوقات مریضوں کو موٹاپا کم کرنے کے لیے آئس کے استعمال کا کہا جاتا ہےـ جب کہ پاکستان میں موٹاپا کبھی کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں رہا اور نہ ہی کبھی پاکستان میں اس پر کوئی سروے ہواـ

اثرات 

وزن میں تیزی سے کمی 
نیند کے مسائل 
دانتوں کے مسائل 
ڈپریشن 
یادداشت کھو دینا 
ایڈکشن 
رشتوں کا تقدس کھو دینا 
کسی کام کو مسلسل نہ کر پانا 
کام میں انٹرسٹ کھو دینا 
دل کی دھڑکن تیز ہو جانا 
پاگل پن 
جسمانی طور پر لاغر اور کمزور محسوس کرنا 
فریب: آئس کے استعمال سے انسان ایسی بیماری کا شکار ہوجاتا ہے جس میں اس کو آوازیں آتی ہیں اور چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں جن کا وجود نہیں ہوتا ـ
اور آخر میں موت

علاج 

آئس کی لت کا علاج ممکن ہے مگر یہ ایک صبر آزما اور مشکل کام ہے اس کے کچھ طریقے ہیں 
Detoxification 
اس میں دوائیوں کے ذریعے آئس کے اثرات کو جسم سے ختم کیا جاتا ہے 
Rehabilitation 
اس میں مریض کو، ایڈکشن کو کنٹرول کرنے کے لیے مہارتیں سکھائی جاتی ہیں
After care 
اس کے بعد مریض کو اپنی recovery کو maintain رکھنے کے لیے sport اور guidance دی جاتی ہے-
علاج کا عرصہ مریض کی جسمانی صحت اور آئس کے استعمال کے عرصے کے مطابق ہوتا ہے اس کا کم سے کم عرصہ ایک سے دو ہفتے ،تین مہینے یا ایک سال بھی ہو سکتا ہے

بحالی کے اثرات: 

کپکپاہٹ ختم ہو جاتی ہے 
آنکھ کی پتلی چھوٹی ہو جاتی ہے 
موڈ بہتر ہو جاتا ہے
جسم میں طاقت محسوس ہوتی ہے 
نیند بہتر ہو جاتی ہے 
حوصلہ افزائی پیدا ہوتی ہے 
سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے ـ


آئس کے اثرات کو تین طریقوں سے check کیا جا سکتا ہے آئس کے اثرات خون میں ایک سے تین دن تک رہتے ہیں 
پیشاب میں اس کا اثر ایک سے چار دن تک رہتا ہے 
تھوک میں اس کا اثر ایک سے دو دن تک رہتا ہے 
مریض کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ ہوتی ہے 
آنکھ کی پتلی بڑی محسوس ہوتی ہے 
مریض لوگوں سے دور ہو جاتا ہے 
آپ اگر اپنے کسی پیارے میں ان اثرات کو دیکھیں تو فورا کسی معالج سے رابطہ کریں اور انہیں موت کے منہ میں جانے سے بچائیں اللہ تعالی ہمارے آنے والی نسلوں کو اس لعنت سے محفوظ رکھے آمین ـ