اکثر یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کے 57 ممالک موجود ہیں، لیکن ان کے درمیان اتحاد، یگانگت اور باہمی ہم آہنگی کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی جارح اور طاقتور ملک بآسانی کسی اسلامی ریاست کو نشانہ بنا لیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی مؤثر اجتماعی مزاحمت سامنے نہیں آتی۔ آج تک اسلامی ممالک مل کر ایسا مضبوط عسکری یا سیاسی اتحاد قائم نہیں کر سکے جس سے یہ ظاہر ہو کہ مسلمان واقعی ’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے‘‘ کے تصور پر عمل پیرا ہیں۔
ہر ملک اپنی سیاسی ترجیحات، ذاتی پسند و ناپسند اور معاشی مفادات کی بنیاد پر مختلف گروہوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ امت کے اجتماعی مفاد کے بجائے قومی اور تجارتی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اگرچہ تاریخ میں متعدد ایسی شخصیات گزری ہیں جن کی قیادت اور آراء کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی، لیکن وہ بھی اسلامی دنیا کو ایک پائیدار اور مؤثر اتحاد کی شکل دینے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ نہ صرف اسلامی ممالک آپس میں مضبوط اتحاد قائم کر سکے بلکہ وہ دیگر اقوام کے ساتھ بھی ایسے مؤثر اور دوراندیش اتحاد بنانے میں ناکام رہے جن سے ان کی سیاسی اور عسکری بصیرت نمایاں ہوتی۔
یہی عوامل کسی بھی ملک کی کمزور خارجہ پالیسی، معاشی ناتوانی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ کمزور تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔ نتیجتاً طاقتور ممالک کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے سازگار ماحول میسر آ جاتا ہے اور دوسرے ممالک پر اثر و رسوخ قائم کرنا یا ان پر قبضہ جمانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب تاریخ میں ہمیں ایسے اتحادوں کی مثالیں بھی ملتی ہیں جنہوں نے عالمی سیاست اور جنگی حکمتِ عملی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1882ء میں جرمنی، آسٹریا۔ہنگری اور اٹلی کے درمیان ’’ٹرپل الائنس‘‘ (Triple Alliance) قائم ہوا، جو عسکری، سفارتی اور سیاسی بنیادوں پر استوار تھا۔ اس اتحاد کے تحت طے پایا کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس اتحاد کا عملی مظاہرہ پہلی جنگِ عظیم میں دیکھنے کو ملا، جہاں ایک طرف یہ ممالک تھے جبکہ دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور روس کا اتحاد موجود تھا۔ بعد ازاں امریکہ بھی اتحادی قوتوں میں شامل ہو گیا۔ اس جنگ میں تقریباً دو کروڑ انسان ہلاک ہوئے، مگر اس کے باوجود اتحادی ممالک اپنے معاہدوں پر قائم رہے۔
اسی طرح دوسری جنگِ عظیم میں بھی دو بڑے اتحاد سامنے آئے۔ ایک طرف اتحادی قوتیں (Allies) تھیں جن میں امریکہ، برطانیہ، سوویت یونین، فرانس اور چین شامل تھے، جبکہ دوسری جانب محوری طاقتیں (Axis Powers) یعنی جرمنی، اٹلی اور جاپان تھے۔ یہ اتحاد عسکری، سفارتی، معاشی اور مشترکہ جنگی منصوبہ بندی کی بنیاد پر قائم کیے گئے تھے تاکہ جنگ کی صورت میں تمام ممالک ایک دوسرے کی مدد کریں۔ دوسری جنگِ عظیم میں تقریباً چھ سے آٹھ کروڑ افراد ہلاک ہوئے، مگر اس جنگ میں بھی اتحاد کی قوت نمایاں طور پر دکھائی دی۔
واضح رہے کہ اتحاد کا مقصد صرف جنگ و جدال نہیں ہوتا بلکہ اس کے ذریعے معاشی و تجارتی روابط کو فروغ دیا جاتا ہے، امن و استحکام کو مضبوط بنایا جاتا ہے، قدرتی آفات کے دوران ایک دوسرے کی مدد کی جاتی ہے اور سفارتی تعلقات کو وسعت دی جاتی ہے۔ اتحاد قوموں کو طاقت، استحکام اور اعتماد فراہم کرتا ہے۔
اسی مقصد کے تحت 1949ء میں شمالی اوقیانوسی معاہداتی تنظیم (NATO) قائم کی گئی، جس کا بنیادی مقصد مشترکہ دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق نیٹو کے کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ آج نیٹو میں 32 ممالک شامل ہیں، جن میں ایک مسلم ملک تُرکی بھی شامل ہے، جو 1952ء سے اس اتحاد کا رکن ہے۔
اسی طرح 1955ء میں وارسا معاہدہ (Warsaw Pact) قائم کیا گیا، جس میں سوویت یونین، پولینڈ، مشرقی جرمنی، چیکوسلواکیہ اور دیگر اشتراکی ممالک شامل تھے۔ یہ اتحاد بھی مکمل طور پر عسکری، سفارتی اور مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ اس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا تھا۔ یہ اتحاد 1991ء میں سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔
اسلامی دنیا میں 1945ء میں عرب لیگ (Arab League) قائم ہوئی، جس کا مقصد عرب ممالک کے درمیان قریبی تعلقات، خودمختاری کے تحفظ، معاشی تعاون، ثقافتی روابط اور سماجی بہبود کو فروغ دینا تھا۔ تاہم اس تنظیم کے بنیادی خدوخال میں امتِ مسلمہ کے ہمہ گیر اتحاد کا تصور نمایاں نہیں تھا۔
بعد ازاں 1969ء میں اسلامی تعاون تنظیم (Organization of Islamic Cooperation - OIC) کا قیام عمل میں آیا، جس میں 57 اسلامی ممالک شامل ہوئے۔ اس تنظیم کا مقصد اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا، مشترکہ مفادات کا تحفظ کرنا، مسلم دنیا کے مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور سیاسی، معاشی و سماجی میدان میں روابط کو مستحکم بنانا تھا۔ تاہم یہ تنظیم بھی امتِ مسلمہ کے مشترکہ دفاع اور مؤثر سیاسی و عسکری اتحاد کی مکمل ترجمان ثابت نہ ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اسلامی دنیا ایک مضبوط اور مؤثر سیاسی و عسکری اتحاد سے محروم دکھائی دیتی ہے۔
جب تک اسلامی ممالک کے درمیان مضبوط سیاسی، معاشی اور عسکری اتحاد قائم نہیں ہوتا، جارح طاقتیں اپنے عزائم میں کامیاب ہوتی رہیں گی اور مسلم دنیا کمزور سے کمزور تر ہوتی جائے گی۔ علامہ محمد اقبال نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اسلامی ممالک ایسا مضبوط سیاسی اور عسکری اتحاد قائم کریں جو نہ صرف مشترکہ مفادات کا تحفظ کرے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی برقرار رکھے۔ ایسا اتحاد عالمی سطح پر ایک مؤثر سیاسی حقیقت کے طور پر ابھر سکتا ہے جس کی متعین کردہ حدود کو عبور کرنا کسی بھی جارح قوت کے لیے آسان نہ ہو۔
جس طرح ایک مضبوط دیوار کسی عمارت کو استحکام بخشتی ہے، اسی طرح اتحاد قوموں کو مضبوط بناتا ہے۔ لیکن جب دیوار گر جائے تو لوگ وہاں سے راستہ بنا لیتے ہیں۔ اگر امتِ مسلمہ نے اپنے اندر موجود انتشار اور باہمی اختلافات پر قابو نہ پایا تو اس کے سیاسی، معاشی اور عسکری نتائج مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ اتحاد قوموں کو قوت بخشتا ہے، کیونکہ بکھرے ہوئے موتی کبھی ہار نہیں بن سکتے۔
تحریر: ✍️
شاہد وسیم
Was this news helpful?
1 people liked this