Pakistan News

Army Chief-designate General Qamar Bajwa will assume command of the Pakistan Army from General Raheel Sharif at a ceremony which is taking place at the General Headquarters(GHQ) in Rawalpindi on Tuesday.

Gen Raheel Sharif reviewed the guard of honour. Speaking at the ceremony prior to handing over the baton of command to Gen Bajwa, Sharif said, "Today i thank God who gave me the opportunity to serve in the world's best army. To achieve our goals, I used the full force of the Pakistani army. I had the entire country's cooperation for which I thank the the army and the nation." He added that he has a firm belief in the Pak Army and he knows that they will always live up to the nation's expectations.

Talking about Pakistan's battle with terrorism he said that everyone has sacrificed for the land.

"I pay my tribute to those who have lost their lives for this nation. We were able to change the face of history by fighting a war against terrorism," he added.

He thanked the federal government, political leadership and the media for their cooperation.

The outgoing army chief stressed that all institutions need to work together against external threats.

He added that India's aggressive tactics in the past months have kept the area under pressure of looming violence but India should know that taking our policy of patience as weakness would be dangerous.

Gen Raheel Sharif and Gen Bajwa entring the ceremony. — DawnNews
Gen Raheel Sharif and Gen Bajwa entring the ceremony. — DawnNews

A military band kickstarted the ceremony with a number of patriotic tunes.

Minister for Defence Khawaja Asif and Minister of State for Information Marriyum Aurangzeb and Speaker National Assembly Ayaz Sadiq are also in attendance.

Before the ceremony, General Raheel laid a wreath at the Yadgar-i-Shuhada.

Gen Qamar Javed Bajwa, a career infantry officer belonging to the Baloch Regiment, was chosen as Pakistan's next Chief of Army Staff and Gen Zubair Mahmood Hayat as the chairman of the Joint Chiefs of Staff Committee (CJCSC) on Saturday. Gen Bajwa will be promoted to the rank of a four-star general and will take up his new post from Tuesday, the day the current army chief Raheel Sharif retires.

Former army chief Ashfaq Pervez Kiyani. — DawnNews
Former army chief Ashfaq Pervez Kiyani. — DawnNews

 

Khawaja Asif at the ceremony. —DawnNews
Khawaja Asif at the ceremony. —DawnNews

Gen Bajwa was previously posted as the Inspector General for Training and Evaluation at the General Headquarters, the same post held by Gen Raheel Sharif before he took over as army chief.

Gen Bajwa was considered as a dark horse in the race for the army’s command and has now superseded Lt Gen Syed Wajid Hussain (chairman of Heavy Industries Taxila), Lt Gen Najibullah Khan (DG Joint Staff Headquarters), Lt Gen Ishfaq Nadeem Ahmed (Corps Commander Multan) and Lt Gen Javed Iqbal Ramday (Corps Commander Bahawalpur).

The succession may not immediately bring about a major change in policies, but it could still have important implications for ties with India and Afgha­nistan, and domestically for the civil-military equation and the ongoing fight against terrorism.

The army chief-designate is credited with having spent a considerable part of his military service in the Rawalpindi-based 10 Corps, which is responsible for guarding the Line of Control (LoC). However, his time at the 10 Corps was a period of relative quiet following the 2003 ceasefire accord.

This experience could prove invaluable as he takes command amidst serious escalation on the LoC, which saw some of the intense skirmishes since 2003.

On a personal level, Gen Bajwa is said to be witty, accessible, well-connected with the troops and not fond of the limelight.

He is the fourth officer from the infantry’s Baloch Regiment to become the army chief. Before him, Gen Yahya Khan, Gen Aslam Beg and Gen Kayani rose to that position.

 

Former Pakistan speedster Shoaib Akhtar on Tuesday announced the birth of a baby boy on Twitter.

The 40-year-old fast bowler expressed his happiness in a tweet as he announced that he and his wife had been 'blessed with a healthy baby boy.'

"The most prized catch my hands have ever, ever held on to... what a feeling!" Akhtar exclaimed.

He told fans that his wife and the baby were fine and, referring to himself by the nickname given to him in tribute to his hometown, Akhtar added, "Rawalpindi Express is a proud papa."

QUETTA: Two more Congo virus cases were reported as two patients were found affected with Crimean–Congo hemorrhagic fever (CCHF) today.

 

According to details, two patients, one hailing from district Loralai and the other from Quetta, were shifted to Fatima Jinnah General and Chest Hospital where the virus was detected after which they were shifted to an isolation ward.

Crimean Congo Hemorrhagic Fever or Congo virus has claimed 19 lives across the country including five in Karachi, 12 in Quetta and two in Bahawalpur this year.

It is should be noted that Congo virus is a viral disease that commonly spreads by ticks found on hairy animals. As the Eid-ul-Azha draws nearer, health experts are advising citizens to take special preventive measures to avoid contracting the virus.

Healthcare workers caring for patients with suspected or confirmed Congo virus or handling specimens from them should implement standard infection control precautions, they advised.

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ نیٹ نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بلوچستان کے بارے میں جو نازیبا بیان دیا تھا صوبے کے عوام نے بھرپور احتجاجی مظاہروں کے ذریعے انہیں منہ توڑ جواب دیدیا ہے۔ افغانستان اپنی سرزمین بھارت کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام ایشوز پر بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتے ہیں لیکن بھارت ہر بار مذاکراتی عمل سے کسی نہ کسی بہانے سے بھاگ جاتا ہے حالانکہ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہیں اور کسی ایک واقعہ کو مذاکرات ختم کرنے کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بہت سنجیدہ ہے، بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جب بھی دونوں ممالک کے مذاکرات ہوں گے، کشمیر کا معاملہ سرفہرست ہو گا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی طرف سے جو ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا گیا ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، بھارت کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب کئے ہوئے ہے، وہاں مظالم کا معاملہ اٹھانے پر بھارت کی طرف سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفاتر بند کئے جارہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیٹی کو حقیقت حال جاننے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں ’’فیکٹ فائنڈنگ مشن‘‘ بھیجنے کی اجازت نہیں دی جارہی، او آئی سی کے مشن کو صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خاتمہ اور ان کی مذمت میں تمام اہم فورموں پر بات کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی کشمیر پر قرارداد کزشتہ 6دھائیوں سے اپنے حل کا انتظار کر رہی ہے۔ بھارتی صحافی جان بوجھ کر امریکی محکمہ خارجہ کی بریفنگز میں میں بلوچستان کا معاملہ اٹھانے کی جھوٹی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ دنیا کی بھونڈے انداز میں مقبوضہ کشمیر میں کئے جانے والے مظالم سے نظریں ہٹائی جا سکیں لیکن اس طرف سے عالمی برادری کی آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ بھارتی افواج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں80 سے زاید افراد شہید اور 7000 کے قریب کشمیری زخمی ہو چکے ہیں۔ ابھی تک بھارتی فوج کے ہاتھوں چھرے والی بندوقوں کے استعمال سے آنکھوں پر زخم کھانے والوں کی تعداد 500 تک پہنچ چکی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کے حوالے سے کسی بیان سے آگاہ نہیں۔ پیٹر لیوائے کا دورہ پاکستان معمول کے دورے کا حصہ ہے۔ ابھی تک جان کیری کے دورے کی تاریخ بھی موصول نہیں ہوئی۔ الطاف حسین کے حوالے سے وزارت داخلہ معاملات دیکھ رہی ہے۔ الطاف حسین کے معاملہ پر وزارت داخلہ نے کئی مواقع پر برطانوی حکومت سے معاملہ اٹھایا۔ وزارت داخلہ کے برطانوی وزارت داخلہ معاہدوں کے تحت ایسے بہت سے معاملات پر رابطے موجود ہیں۔ سارک ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا عمل انتہائی کم رفتار ہے۔ پاکستان سارک ممالک کی 19ویں کانفرنس کی میزبانی نومبر میں کر رہا اس حوالے سے تمام اقدامات جاری ہیں۔ ہم سارک کانفرنس کے حوالے سے پرامید ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ گزشتہ 15برس میں افغانستان میں طاقت کے استعمال کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ افغان باہمی امن مذاکرات افغان حکومت کے امن عمل کے حوالے سے خواہشات کی ترجمانی کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ناقابل برداشت ہیں۔ طارق فاطمی این ایس جی پر حمایت کے لیے چند ممالک کے دورے پر ہیں۔ ہمیں بھارت اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ معاہدوں پر کوئی اعتراض نہیں لیکن افغانستان اپنی سرزمین بھارت کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے۔ 15 برس میں افغانستان میں طاقت کے استعمال کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، افغانستان کے مسئلے کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث مسئلہ کشمیر کا حل نہیں نکل رہا۔ بھارت سے گزشتہ 40 سال سے بہت سے معاملات پر اختلافات ہیں۔ سارک ممالک کی سربراہی کانفرنس کے لئے تمام ممالک نے شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ سارک ممالک کو غربت اور پسماندگی اور مہنگائی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ دریں اثنا ترجمان دفتر خارجہ نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہاں دوستی گیٹ افغانیوں کی طرف سے پاکستانی جھنڈا جلانے کے بعد بند کیا گیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ بارڈر پر انٹری پوائنٹس پر نگرانی کی جا رہی ہے۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی نظام میں بہتری دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ افغانستان میں امن پاکستان کی خواہش ہے۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں مفاہمتی عمل صرف پاکستان کی نہیں افغانستان، امریکہ، چین کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارت کے ظلم و ستم کا نوٹس لے، پاکستان کابل میں دہشتگردی کے واقعات کے پرزور مذمت کرتا ہے۔ افغانستان کیساتھ بارڈر پر انٹری پوانئٹس پر نگرانی کی جا رہی ہے۔ پاکستان نے بھارت کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دی، بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر مسلسل ظلم کر رہا ہے۔ ہماری کوشش ہے عالمی برادری کو بھارت فورسز کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے اقدامات سے آگاہ کیا جائے۔

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ ایجنسیاں) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع و خارجہ امور کے مشترکہ اجلاس کو بتا یا گیا ہے کہ پاکستان افغان سرحدی انتظام کے تحت سلامتی کو موثر بنانے کے لئے فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے 72ونگز بنائے جارہے ہیں، طور خم کے بعد چمن بارڈر سمیت 4 بڑے کراسنگ پوائنٹس پر نقل و حرکت کی موثر نگرانی کے لئے پاکستان کی طرف کام جاری ہے، پاکستان افغان سرحد پر پاکستان کی حدود میں 6 پوسٹیں قائم ہیں جبکہ افغانستان میں صرف ایک چیک پوسٹ ہے، ملکی دفاعی ضروریات سے آگاہ ہیں اور انہیں پورا کرنے کے لئے تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں جس کے لئے مختلف ممالک سے بات چیت جاری ہے، کسی افغان شہری کو دستاویزات کے ہمراہ اور جائز کام کے لئے آنے سے نہیں روکا جائے گا لیکن بغیر سفری دستاویزات اور بدامنی کرنے والوں کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند کررہے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع و خارجہ امور کا مشترکہ اجلاس سینیٹر مشاہد حسین سید اور سینیٹر نزہت یاسمین کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز، سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری، وزارت دفاع کے قائم مقام سیکرٹری ریئر ایڈمرل مختار خان کے علاوہ وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے دیگر حکام اور دونوں کمیٹیوں کے ممبران اس موقع پر موجود تھے ۔ قائم مقام سیکرٹری دفاع رئیر ایڈمرل مختارخان اور سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ پاکستان افغان سرحدی انتظام کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے بتا یا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے قیام کے لئے ہر ممکن کوششیں کر رہا ہے، پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے، ہمارا موقف ہے کہ امریکہ، افغانستان، چین، طالبان اور تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز اگر افغانستان کا مستقل حل چاہتے ہیں تو اس کا حل صرف باہمی ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے، اس کے ساتھ ساتھ کچھ کام ایسے ہیں جو افغانستان کے اندر ہونے ہیں اور وہ افغان حکومت نے کرنے ہیں، سب سے پہلے افغان حکومت طالبان کو ٹھوس پیغام دیںکہ وہ مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ ہیں، افغان حکومت طالبان کے لئے ایک ایسا پیکج دے کہ وہ اگر انتہا پسندی کا راستہ ترک کرتے ہیں تو افغانستان میں ان کے لئے کوئی متبادل نظام ہو جس میں وہ معمول کی زندگی گزارنے کے قابل ہوسکیں‘ اگر ایسا کوئی پیغام افغان حکومت کی جانب سے طالبان کو جاتا ہے تو طالبان کو بھی احساس ہوگا کہ جنگ و جدل کی بجائے میز پر بیٹھ کو تمام معاملات حل کرنے میں ہی فائدہ ہے کیونکہ اگر افغانستان کی سکیورٹی فورسز بھی کامیاب نہ ہوئیں تو اسکے منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ سرحدی انتظام کو بہتر بنانے جیسے معاملات افغانستان سے باہر ہونا ہیں۔ افغان حکومت کی جانب سے غیر ریاستی عناصر کے داخل ہونے کی شکایات ہیں، اسی طرح پاکستان کو بھی تحفظات ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد افغانستان سے آتے ہیں اور کارروائی کرتے ہیں۔ ان تحفظات کے ازالے کیلئے پاک افغان سرحد پر انتظام کو موثر بنانا ہوگا کیونکہ یہ پاکستان اور افغانستان دونوں کے لئے فائدہ مند ہے۔ پاکستان اورافغانستان کے مابین سرحد پر واقع بڑے کراسنگ پوائنٹس پر ہزاروں لوگوں کی آمدوفت ہوتی ہے، پاکستان کسی افغان شہری کو دستاویزات کے ساتھ اور جائز کام کے لئے ملک آنے سے نہیں روکے گا لیکن بغیر سفری دستاویزات اور بدامنی کرنے والوں کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند کررہے ہیں۔ سرحدی انتظام کے لئے افغانستان سے کافی عرصے سے بات چیت کا عمل جاری ہے، پاکستان سرحدی انتظام کو بہتر بنانے کے لئے اب اپنے علاقے میںکام کر رہا ہے‘ اس وقت تک طور خم بارڈر سمیت جہاں پر بھی سرحدی انتظام کو بہتر بنانے کے لئے پاکستان نے کام کیا ہے وہ پاکستان افغان سرحد پر اپنی حدود کے اندر کیا ہے‘ اگر افغانستان بھی پاکستان افغان سرحد پر اپنی طرف اس طرح کا کام کرے تو دونوں ممالک کے لئے یہ موثر اور فائدہ مند ہوگا۔ سرحد ی انتظام کو موثر بنانے کے لئے پاکستان طور خم طرز کی تعمیرات کریگا‘ پاکستان کی یہ اولین ترجیح ہے کہ پاکستان افغان سرحد کو محفوظ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحدی انتظام سمیت دنیا کے ساتھ پاکستان تعلقات کی جو پالیسی ہے وہ کھلی کتاب کی مانند ہے‘ منتخب جمہوری حکومت نے جو بھی موقف اختیار کیا وہ عوامی امنگوں کے عین مطابق ہیں‘ عوام نے ہمیشہ حکومت کے موقف کی تائید کی۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے افغانستان کی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی ہدایت کی تھی جس کی روشنی میں برادرملک کے ساتھ تمام معاملات خوش اسلوبی کے ساتھ طے کرنے کی پالیسی پر کام ہو رہا ہے۔ پاکستان افغان مفاہمتی عمل کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ اسامہ بن لادن کے بعد ملا منصور پر حملہ دوسرا بڑا واقعہ ہے، اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ وہ لوگ پاکستان میں کیسے آئے اور انہیں کس طرح پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری ہوئے ہیں۔ وزارت دفاع کے قائمقام سیکرٹری رئیر ایڈمل مختار احمد نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاک افغان سرحد پر موثر سرحدی انتظام کے لئے چار بڑے کراسنگ پوائنٹس پر کام ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات سے آگاہ ہے اور اس حوالے سے تمام آپشنز پر غور جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ نے فاٹا میں سرحدی انتظام کے لئے 100ملین ڈالر کی گرانٹ دی ہے اور اس منصوبے کی تکمیل تک مالی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن اس بارے میں کچھ سیاسی اور سفارتی ایشوز ہیں جنھیں حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان افغان سرحدی انتظام کے لئے ایف سی کی 72ونگز بنائی جارہیں ہیں‘ اس پر کام تیزی سے جاری ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف موقف کو پوری دنیا کی حمایت حاصل ہے، امریکہ پر واضح کر دیا ہے ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں، ملا اختر منصور پر ہونے والے ڈرون حملے سے افغان امن عمل مذاکرات کو براہ راست نقصان پہنچا ہے۔ طالبان کا ایک گروپ مذاکرات کا حامی تو دوسرا مخالف ہے، پاکستان افغان بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لئے مواثر اقدامات کیے جا رہے ہیں، بارڈر مینجمنٹ کے لئے سہولیات کو یقینی بنایا جائے گا، دستاویزات کے بغیر آنے والوں کو اجازت نہیں دی جائیگی۔ سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے کہا ہے کہ افغان بارڈر پر چار مقامات پر گیٹ تبدیل کئے جا رہے ہیں افغانستان کے ساتھ مفاہمتی عمل ہماری طرف سے پہلی ترجیح ہے، پاکستان اور افغانستان دونوں جانب سے یہی پیغام ہے کہ مسائل کا حل عسکری نہیں ہے، لیکن دونوں مرتبہ حالات ایسے پیدا کئے گئے کہ مسئلہ حل نہیں ہو پایا، افغانستان، طالبان اور حقانی کو بھی یہی پیغام ہے کہ مسائل کا حل بات چیت سے ہی نکلے گا، افغانستان سے بارڈر کے راستے ہزاروں لوگ آتے ہیں لیکن جو لوگ بدامنی کے لئے آتے ہیں انکا راستہ بند کرنا ہوگا، پاکستان نے جنوبی چین سمندری تنازعہ پر چین کے موقف کی تائید کی ہے، پاکستان کا موقف ہے اس معاملے کو انٹرنیشنل بنانے کی بجائے متعلقہ ممالک مل کر حل کریں چین پاکستان کے اصولی موقف سے خوش ہے، گذشتہ چند ماہ میں افغانستان سے 50 سے 60 تلخ بیانات آئے لیکن ہم نے کوئی جواب نہیں دیا۔

راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی سے فون پر گفتگو ہوئی جس میں جنرل راحیل شریف نے امریکی یونیورسٹی پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کے حملے کی شدید مذمت کی اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ پاکستانی سرزمین کسی بھی صورت افغانستان میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دیںگے۔ افغان حکام نے امریکی یونیورسٹی پر حملے میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والے تین موبائل فون نمبر دیئے تھے جو مبینہ طور پر دہشت گرد حملے کے دوران حملہ آوروں کے زیر استعمال تھے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق افغان حکام کی طرف سے فراہم کئے جانے والے تینوں موبائل نمبروں کی بنیاد پر پاک فوج نے پاک افغان بارڈر کے قریب عسکریت پسندوں کی موجودگی کی تصدیق کے لئے کومبنگ آپریشن شروع کیا جس کے دوران اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ سمز ایک افغان کمپنی آپریٹ کر رہی ہے جس کے سگنل پاکستان افغانستان سرحدکے قریب بعض علاقوں میں آتے ہیں۔ اب تک کی تمام معلومات سے افغان حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ موبائل نمبروں کے بارے میں تکنیکی تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ جنرل راحیل نے افغان صدر کو مزید معلومات فراہم کرنے کے حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔کابل کے مرکز میں واقع امریکن یونیورسٹی پر حملے میں8 طلبہ سمیت مرنے والوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 10 گھنٹے کے آپریشن کے بعد سیکورٹی فورسز نے دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ابھی تک کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ پروفیسر، 8 طلبہ کے علاوہ 2 پولیس اہلکار اور 3 گارڈز 3 فوجی ہلاک ہوئے۔ کابل پولیس کے سربراہ عبدالرحمان رحیمی نے بتایا 35 طلبہ اور 9 پولیس اہلکاروں، لیکچرار سمیت 53 زخمی ہوئے 750 طلبہ اور سٹاف کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا مرنے والوں میں ووکیشنل سکول کے گارڈز شامل ہیں۔ بڑی یونیورسٹی پر پہلا بڑا حملہ ہے۔ صدر اشرف غنی نے اس کی مذمت کی ہے۔ صدارتی آفس سے جاری بیان میں الزام لگایا گیا حملے کا منصوبہ پاکستان میں بنا۔ پاکستان نے کابل یونیورسٹی پر حملے کی مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے۔ افغان انٹیلی جینس نے حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکن یونیورسٹی پر حملے کی منصوبہ بندی ڈیورنڈ لائن کے پار ہوئی۔ رائٹرکے مطابق افغانستان کے صدارتی محل نے کہا ہے کہ ابتدائی انٹیلی جینس تحقیقات کے مطابق حملے کا منصوبہ پاکستان میں بیان کیا تھا۔ افغان صدر کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کی زیر صدارت میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) کے حکام نے کہا کہ یونیورسٹی پر حملے کے شواہد اور مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جارہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کی اب تک کی تحقیقات کے حوالے سے اشرف غنی نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور حملے میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف شواہد کی روشنی میں سنجیدہ اور عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔بی بی سی کے مطابق افغان صدارتی محل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی یونیورسٹی کے حملہ آوروں کو ہدایات بھی پاکستان سے ملتی رہیں

Pakistan Army wins international sniping competition

 

Pakistan Army soldiers have won an international sniping and shooting competition in Beijing, Inter-Services Public Relations (ISPR) said Thursday.

 

According to an ISPR statement, the team representing Pakistan Army secured first position in all individual and team events.

In July, a Pakistan Air Force (PAF) C-130 Hercules transport aircraft won the Concours D’ Elegance trophy at the Royal International Air Tattoo (RIAT) Show 2016 at Royal Air Force Base Fair Ford in the United Kingdom.

 

More than 200 aircraft from 50 countries participated in the competition, with the Pakistani contingent stealing the show and winning the trophy.

Last year, a team of Pakistan Army won the gold medal in the premier patrolling event of the British Army - Exercise Cambrian Patrol - beating around 140 teams from armies across the globe.

KARACHI: Every year during Eid shopping emerges a new trend in wrist jewellery.

Only last year, no one really seemed interested in buying matching glass bangles with their pretty new clothes. Young women went for bracelets instead and their mothers said that they had too much work to do around the house on Eid day to wear the delicate bangles and see them broken. This year they have a solution for that at least — metal bangles. They don’t break.

And another great thing about the metal bangles in silver and gold is that they go with everything. Your chinking, clinking and jangling silver bangles will compliment your dark blue shalwar kameez as your golden bangles would look great with your maroon kurti. Quite frankly, if you want to wear golden bangles with the blue clothes and silver ones with your maroon dress, that is fine, too. And you don’t have to match bangles with your clothes anymore. Just get two dozen or so golden and silver bangles and you are done.

“Since metal bangles don’t break at all, I am also getting them for my six-year-old little daughter instead of getting her plastic bangles this Eid,” said a mother as she checked the small sizes available at one bangles shop at Gulf Shopping Centre, near Teen Talwar in Clifton.

Outside Jama Cloth Market on M.A. Jinnah Road, too, many bangle stalls had displayed the metal varieties in front. There were plain ones and those with a generous coat of glitter, too. “Is the glitter going to come off?” one girl asked a salesman while reaching for a glittering golden set.

“Of course not,” Ali Shah, the shopkeeper, replied, and the girl jokingly questioned then where did all that glitter on his forehead and hands come from. “It is not from the variety you have selected, Sister! It is from the glass bangles,” he tried to explain to which the girl started laughing, not believing him at all.

Hameed Khan, in the same shop, was selling bangle sets on 30 bangles or two-and-a-half dozen for Rs250 each and the aunty-type facing him wasn’t at all happy with the price though not one to back down easily the salesman kept explaining to her that the price was right as the bangles would last for years. “You may lose or misplace them, you won’t ever break them,” he said. But the aunty, too, being an old hand at bargaining, argued that they could bend nevertheless. “Besides, what if they turned black?” she asked. Finally, her daughter intervened and paid for the set without bargaining.

For those who still believe in the traditional glass bangles, they only cost Rs20 a dozen and are pretty as ever. Most bangle shops also keep packets of cone henna. “It’s keeping in line with tradition to wear bangles and decorate the hands with henna, hence the availability of it at bangle shops,” said Mairajuddin, another bangle shop owner.

Published in Dawn, July 4th, 2016

HUMAN rights organisations and even some former US military commanders argue that drone strikes inadvertently increase terrorism by exerting a “blowback” effect. Their logic is simple. Drone strikes kill more innocent civilians than terrorists, which radicalises affected populations and motivates them to join terrorist groups to retaliate against the United States.

The perfect case for testing the blowback effect is Pakistan, where, since 2004, the CIA has launched an estimated 423 strikes, constituting 75 per cent of the agency’s drone strikes worldwide.

The strikes were carried out in the country’s Federally Administered Tribal Areas (Fata) bordering Afgha­nistan, where Al Qaeda and Taliban militants found a safe haven after the US invasion of Afghanistan in 2001.

Opinion polls, such as those carried out by the Pew Research Centre, indicate widespread Pakistani anger at drone strikes. Pew’s latest (2014) survey showed that 67 per cent of respondents opposed drone attacks because they kill “too many innocent people”. However, Pew data on drones is deeply misleading as the organisation draws its samples mostly from urban areas not directly impacted by drone strikes.

Nonetheless, in a 2011 survey conducted by a local NGO in Fata, 63 per cent of the respondents thought drone strikes “are never justified”. But when the results are disaggregated, support for drone strikes is the highest in North Waziristan, the Fata agency where the CIA has carried out most of its lethal drone operations, compared to the other six.

Except for a 2012 Associated Press analysis of casualties from 10 of the deadliest drone strikes in North Waziristan, the voice of the local population most affected by drone strikes is often neglected in this contentious debate.

To assess local perceptions of drone strikes, I conducted 147 interviews with adult residents of North Waziristan in the summer and winter of 2015. The study constitutes the largest set of in-depth interviews with people from the district, including maliks, reporters, lawyers, businessmen, rights activists, and heads and members of the local chapters of seven political parties, including the Jamiat Ulema-i-Islam and Jamaat-i-Islami (JI).

Broadly speaking, the interview data do not support the blowback thesis. More specifically, the data contradict the presumed local radicalisation effects of drones. In fact, 79 per cent of the respondents endorsed drones.

In sharp contrast to claims about the significant civilian death toll from drone strikes, 64 per cent, including several living in villages close to strike locations, believed that drone strikes accurately targeted militants. And 56 per cent believed drones seldom killed non-militants.

As the Crisis Group and Georgetown’s Christine Fair have noted, most locals prefer drones to the military’s ground and aerial offensives that cause more extensive damage to civilian life and property.

Even local members of the JI and the vehemently anti-drone Pakistan Tehreek-i-Insaf disputed their national leadership’s claims about the heavy loss of innocent lives as a result of drone strikes. More than two-thirds of respondents said that most of the non-militant civilians who died in drone attacks were known militant sympathisers or collaborators who might already be radicalised. More strikingly, most interviewees believed that the drone campaign decisively broke the back of the Taliban.

Recent studies have also posited a link between drone fatalities and revenge in Fata. When someone dies in a drone strike, the argument goes, their family members are obligated to take revenge in accordance with their ethical code of Pashtunwali. But less than 15 per cent of the respondents supported the revenge thesis.

As many tribal elders stressed to me, militants were motivated by a violent jihadi creed, not Pashtun customs predating Islam. The Taliban have assassinated hundreds of tribal leaders and others on the mere suspicion of spying for the US or the Pakistan military. If anything, the revenge motive should drive people to target the Taliban to avenge the deaths of their loved ones.

The US drone strategy in Pakistan raises serious ethical, legal and mental health concerns. While the Obama administration justifies the use of armed drones as lawful self-defence against Al Qaeda and its affiliates, many legal experts believe that lethal drone strikes in non-traditional battlefields, such as Fata, are impermissible under international law.

And as emphasised in the well-known 2012 Stanford-NYU Law School Clinics study, “Living Under Drones”, and other reports, the traumatising impact of constant drone surveillance on Fata residents cannot be ignored either. Almost one-fourth of the respondents affirmed drones’ negative psychological effects on locals.

Drone warfare in Fata has many problems. But as my interview data clearly suggest, blowback is not one of them. In fact, the data show the opposite: Most respondents support drone strikes.

By arrangement with the Washington Post

The writer is an assistant professor in the College of International Studies at the University of Oklahoma

Published in Dawn, May 22nd, 2016

login with social account

10.png

Images of Kids

Events Gallery

Currency Rate

/images/banners/muzainirate.jpg

 

As of Mon, 11 Dec 2017 03:25:07 GMT

1000 PKR = 2.877 KWD
1 KWD = 347.608 PKR

Al Muzaini Exchange Company

Go to top